تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی| 7 محرم الحرام کو میدان کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت کا ایک اور دردناک باب رقم ہوا۔ اس دن عبیداللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کے نام ایک سخت حکم نامہ روانہ کیا، جس میں اسے حکم دیا کہ خیام حسینی اور دریائے فرات کے درمیان مکمل رکاوٹ کھڑی کر دی جائے، تاکہ اہلِ بیتِ رسولؐ اور ان کے جان نثاروں کو پانی کا ایک قطرہ بھی میسر نہ ہو سکے۔
چنانچہ عمر بن سعد نے عمرو بن حجاج کی قیادت میں ایک دستہ فرات پر متعین کر دیا اور پانی کا راستہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔
اسی دوران قبیلۂ بجیلہ کے ایک شخص، عبداللہ بن حصین اَزدی نے نہایت گستاخانہ انداز میں آواز دی: "اے حسینؑ! اب تم اس پانی کو آسمان کے رنگ کی طرح بھی نہ دیکھ سکو گے۔ خدا کی قسم! تم اس کا ایک قطرہ بھی نہیں پی سکو گے، یہاں تک کہ پیاس سے جان دے دو گے۔"
امام حسین علیہ السلام نے اس کی سنگ دلی اور جسارت پر بارگاہِ الٰہی میں دعا کرتے ہوئے فرمایا: "پروردگار! اسے پیاس کے عذاب میں مبتلا کر اور اپنی رحمت سے محروم فرما۔"
ساتویں محرم تک کربلا کے سب سے دردناک اور فیصلہ کن لمحات قریب آ چکے تھے۔ اگرچہ حضرت مسلم بن عوسجہ علیہ السلام کی آمد نے اصحابِ امامؑ کے دلوں میں خوشی، اطمینان اور حوصلے کی نئی روح پھونک دی تھی، لیکن ظلم و ستم کا ایک ایسا طوفان سامنے تھا جو بہت جلد اپنی انتہا کو پہنچنے والا تھا۔
حضرت مسلم بن عوسجہ علیہ السلام شب کی تاریکی میں کوفہ سے نکل کر کربلا پہنچے اور امام حسین علیہ السلام کے قافلے سے جا ملے۔ آپ کوفہ کی ممتاز، باوقار اور بااثر شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور اہلِ بیت علیہم السلام کے مخلص، جان نثار اور ثابت قدم حامی و شیعہ تھے۔
جب حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کوفہ تشریف لائے تو حضرت مسلم بن عوسجہ علیہ السلام نے ان کی بھرپور نصرت کی۔ آپ لوگوں سے امام حسین علیہ السلام کی حمایت کے لئے بیعت لیتے، اسلحہ خریدنے کا انتظام کرتے، عوامی امداد جمع کرتے اور قبائلِ مذحج و بنی اسد کے مجاہدین کی قیادت کی ذمہ داری بھی انجام دیتے تھے۔
حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام اور جناب ہانی بن عروہ علیہ السلام کی شہادت اور کوفیوں کی بے وفائی کے بعد حضرت مسلم بن عوسجہ علیہ السلام عبیداللہ بن زیاد کے کارندوں کی نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ بعد ازاں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رات کی تاریکی میں کوفہ سے روانہ ہوئے اور کربلا پہنچ کر امام حسین علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہوگئے۔
روزِ عاشورا جب حق و باطل کی افواج آمنے سامنے ہوئیں تو عمر بن سعد کے لشکر کا ایک دستہ، جس کی قیادت عمرو بن حجاج کر رہا تھا، دریائے فرات کی جانب سے حملہ آور ہوا۔ اس کا مقابلہ لشکرِ امامؑ کے میسرہ سے ہوا، جس کی کمان حضرت زہیر بن قین علیہ السلام کے ہاتھ میں تھی۔
اس معرکہ میں حضرت مسلم بن عوسجہ علیہ السلام نے بے مثال شجاعت، استقامت اور وفاداری کا مظاہرہ کیا۔ تاریخی روایات کے مطابق آپ نے دشمن کے تقریباً پچاس جنگجوؤں کو ہلاک کیا اور مسلسل دشمن کی صفوں میں گھس کر شمشیر زنی کرتے رہے۔ جنگ کی شدت سے میدانِ کربلا گرد و غبار سے بھر گیا۔ کچھ دیر بعد جب گرد بیٹھنے لگی تو دیکھا گیا کہ حضرت مسلم بن عوسجہ علیہ السلام شدید زخمی حالت میں خاکِ کربلا پر پڑے ہیں۔
امام حسین علیہ السلام اور جناب حبیب بن مظاہر علیہ السلام فوراً ان کے سرہانے تشریف لائے۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: "اے مسلم! خدا تم پر رحمت نازل فرمائے۔"
پھر آپؑ نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی: "فَمِنْهُم مَّنْ قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا" یعنی "مومنوں میں کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اپنا عہد پورا کر دکھایا اور کچھ اس کے منتظر ہیں، اور انہوں نے اپنے عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔"
جناب حبیب بن مظاہر علیہ السلام نے فرمایا: "تمہاری شہادت مجھ پر نہایت گراں ہے، لیکن میں تمہیں جنت کی بشارت دیتا ہوں۔"
حضرت مسلم بن عوسجہ علیہ السلام نے نحیف آواز میں جواب دیا: "خدا تمہیں بھی خیر و سعادت کی بشارت دے۔"
پھر جناب حبیب بن مظاہر علیہ السلام نے عرض کیا: "اگر میری اپنی شہادت قریب نہ ہوتی تو میں چاہتا کہ تم اپنی وصیت مجھ سے بیان کر دو، تاکہ میں دینی اور قرابت داری کا حق ادا کر سکوں۔"
اس پر حضرت مسلم بن عوسجہ علیہ السلام نے امام حسین علیہ السلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "میں تمہیں اس ہستی کے بارے میں وصیت کرتا ہوں۔ خدا تم پر رحم کرے، جب تک تمہارے جسم میں جان باقی ہے ان کا دفاع کرنا، ان کی نصرت سے دست بردار نہ ہونا اور ان پر قربان ہو جانا۔"
جناب حبیب بن مظاہر علیہ السلام نے عرض کیا: "خدا گواہ ہے، میں تمہاری وصیت پر ضرور عمل کروں گا اور تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کر دوں گا۔"
یہ منظر وفاداری، ایثار، معرفتِ امام اور ولایت سے وابستگی کی ایک عظیم مثال ہے۔ حضرت مسلم بن عوسجہ علیہ السلام اپنی آخری سانسوں میں بھی اپنی ذات، مال یا اہلِ خانہ کی فکر نہیں کرتے، بلکہ ان کی سب سے بڑی وصیت امامِ وقتؑ کی نصرت اور حفاظت ہے۔ یہی وہ وفاداری ہے جس نے اصحابِ حسینی کو تاریخِ انسانیت کے عظیم ترین وفاداروں میں شامل کر دیا۔
پیغامِ کربلا؛ دورِ حاضر کے لئے چند اہم اسباق
1۔ حق کا ساتھ قربانی کا تقاضہ کرتا ہے: حضرت مسلم بن عوسجہ علیہ السلام نے ثابت کر دیا کہ حق کی حمایت صرف دعووں اور نعروں سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لئے قربانی، استقامت اور عملی جدوجہد درکار ہوتی ہے۔
2۔ امامِ حق کی معرفت نجات کا راستہ ہے: حضرت مسلم بن عوسجہ علیہ السلام کی آخری فکر اپنی ذات نہیں، بلکہ امام حسین علیہ السلام کی نصرت تھی۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر دور میں امامِ حق کی معرفت اور اس کے مشن سے وابستگی مؤمن کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
3۔ بصیرت مؤمن کا سب سے بڑا سرمایہ ہے: کوفہ میں ہزاروں افراد موجود تھے، مگر حق کو پہچاننے والے بہت کم تھے۔ آج بھی فتنوں، پروپیگنڈے اور فکری انتشار کے دور میں بصیرت ہی انسان کو گمراہی سے بچا سکتی ہے۔
4۔ وفاداری کا معیار اصول ہیں، مفادات نہیں: اصحابِ حسینی نے دنیاوی مفادات کے بجائے حق کا انتخاب کیا۔ یہ درس آج بھی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سچے انسان کی وابستگی اصولوں سے ہوتی ہے، حالات سے نہیں۔
5۔ نوجوانوں کے لئے عظیم نمونۂ عمل: حضرت مسلم بن عوسجہ علیہ السلام کی زندگی نوجوان نسل کو ہدف، غیرت، ایثار، ذمہ داری اور دینی حمیت کا درس دیتی ہے۔
6۔ ظلم کے خلاف خاموشی بھی جرم ہے: کربلا کا ایک اہم پیغام یہ ہے کہ ظلم کے مقابل خاموش رہنا درحقیقت ظالم کو طاقت فراہم کرنا ہے۔ مؤمن کا راستہ حق کی حمایت اور مظلوم کی نصرت ہے۔
7۔ آخری سانس تک ذمہ داری کا احساس: حضرت مسلم بن عوسجہ علیہ السلام شدید زخمی حالت میں بھی اپنی ذمہ داری نہیں بھولے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مؤمن زندگی کے آخری لمحے تک اپنے فرائض سے غافل نہیں ہوتا۔
8۔ کربلا ایک زندہ اور دائمی درسگاہ ہے: کربلا صرف تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ ہر زمانے کے انسان کے لئے حق، عدالت، آزادی اور وفاداری کا زندہ پیغام ہے۔
حضرت مسلم بن عوسجہ علیہ السلام کی زندگی اور شہادت یہ درس دیتی ہے کہ حق کی پہچان، امامِ حق کی نصرت، ظلم کے خلاف قیام، بصیرت کے ساتھ زندگی گزارنا اور اصولوں پر ثابت قدم رہنا ہی ایک مؤمن کی حقیقی شناخت ہے۔ یہی وہ اقدار ہیں جنہوں نے اصحابِ حسینی کو تاریخِ انسانیت کا ابدی سرمایہ، وفا کا استعارہ اور حق پرستی کا روشن مینار بنا دیا۔ آج بھی جو شخص کربلا کے پیغام کو سمجھ لے، وہ زندگی کے ہر میدان میں حق کا علمبردار بن سکتا ہے۔









آپ کا تبصرہ